Archive

Archive for January, 2011

مسئلہ کشمیر کا حل بھارتی آئین میں نہیں‘ حق خود ارادیت میں: مظفر آباد میں یوم سیاہ پر محمد فاروق رحمانی اور دیگر لیڈروں کاخطاب۔

January 26, 2011 1 comment

مظفر آباد 26جنو ری2011:  آج یہاں ایک مقا می ہو ٹل میں جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے زیر اہتمام منعقدہ کشمیر کانفر نس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں اقوام متحدہ کی سلا متی کو نسل پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیر کے خصوصی دورے سے واپس آئے ہو ئے اپنے نما ئندے  مار گریٹ سکا گو یا کی اِنسا نی حقوق کی پاما لیوں کے با رے میں رپورٹ کا جا ئزہ لے اور اُس کی روشنی میں ریاست میں نا فذ شدہ تمام کا لے قوانین کی منسو خی‘ نظر بندوں کی رہائی اور بھارتی افواج اور پولیس کے انخلاءکے لئے حکو مت ہند پر دباﺅ ڈالے۔ اِس کے علاوہ گذ شتہ اکیس سالوں میں بھارتی فوج اور پولیس نے علاقے میں اِنسا نیت کے خلاف جو جرائم کئے ہیں‘ اُن کاتدارک کر نے کے لئے بھارت کو عالمی عدالت میں بلائے اورکشمیر کا مسئلہ حق خود ارادیت کے اصول کی ر وشنی میں آزادانہ رائے شما ری کے ذریعے سے طے کر انے کا فرض نبھا ئے۔ اِ س کانفرنس کی صدارت جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چئیرمین محمدفاروق رحمانی نے انجا م دی۔ اُنہوں نے اپنے خطا ب میںبھارتی آئین کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کا مفروضہ مسترد کر تے ہو ئے کہا کہ حق خودارادیت اور رائے شما ری ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے۔ حال ہی میںجنو بی سودان میں بھی رائے شما ری کرا ئی گئی۔ اُنہوں نے کشمیریوں کی مسلسل قربا نیوں کو خرا ج تحسین پیش کر تے ہو ئے کہا کہ مو جو دہ کشمیری نسل بھی حق خود ارادیت اور رائے شما ری کے بغیر اور کسی حل پر تیار نہیں ہو گی۔ وہ ریاست کی وحدت اور سالمیت پر کو ئی آنچ آنے نہیں دے گی۔ اُنہوں نے آزاد کشمیر کے حکمرا نوں پر زور دیا کہ وہ اُن مظلوم لو گوں کو ما یوس نہ کر ے‘ جو بھارتی فو جی جارحیت کی و جہ سے کئی سالوںسے آزاد کشمیر میں رہا ئش پذیر ہیں۔ اُن کے معا شی‘ تعلیمی اور روزگار کے مسا ئل حل کئے جائیں اور اُنہیںدفتری طوا لت اور رشوت ستا نی کا شکار نہ بنایا جائے۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں مہا جرین کشمیر نے شرکت کی اورمہا جرین کشمیر کی کئی لیڈروں نے اپنے اپنے خطا ب میں بھارت کو کشمیر سے کا لے قوانین کی واپسی اور جیلوں میں بند قیدوں کی رہائی کا مطا لبہ کیا۔

Advertisements

یو م سیاہ پر مظفر آباد میں کشمیر کا نفرنس کی قرار داد

January 26, 2011 Leave a comment

یو م سیاہ پر مظفر آباد میں کشمیر کا نفرنس کی قرار داد

مظفر آباد:

26اکتو بر2011ئ

ہندوستان کے یو م جمہوریہ یعنی یو م سیاہ پر جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے زیر اہتمام منعقدہ حریت پسند انِ کشمیر کا یہ اجتماع کشمیری عوام کے مسلّمہ اور تا ریخی مو قف ۔ حق خوداردایت کا اعلا ن اِن الفا ظ میں کر تا ہے۔

(1) 27 اکتو بر 1947ءکو ہندو ستان کی افوا ج نے جموں و کشمیر پر ایک خوفنا ک فو جی جا رحیت کی اور 26جنو ری 1950ءکو اِس ریاست پر بھارتی آئین نا فذ کردیا گیا ۔ یہ اجتما ع بھارتی آئین کے نفا ذ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منا فی قرار دیتے ہو ئے‘ اِس کو مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک بہت بڑی رکا وٹ تصور کرتا ہے ۔

(2) جموں و کشمیر بھارت کا اَٹو ٹ حصہ نہیں ہے‘ کیو نکہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بین الاقوا می قراردوادوں کی رو شنی میں ایک آزاد اور بے ریا را ئے شما ری کے ذرےعے ہو نا باقی ہے ۔

(3) اقوام متحدہ کے کمیشن برا ئے ہند وپاکستان کی تا ریخی قراردادوں کے علاوہ خود بھی بھارتی رہنما ﺅں نے پارلیمنٹ کے اندر اور با ہر کشمیریوں اور عالمی رائے عامہ کے سا تھ رائے شما ری کا وعدہ کیا تھا ۔

(4) ہم اپنے اِس غیر متزلزل ایمان کا آج اِس یو م سیاہ پر پھر اعا دہ کر تے ہیں کہ بھارتی آئین کے دا ئرے میں کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا کو ئی حل قبول نہیں کریں گے۔ ہم حق خودارادیت کے سوال پر ریاست کی وحدت پر کو ئی آنچ نہین آنے دیں گے۔

((5 ہم مقبو ضہ جموںو کشمیر پر 1947ءسے علی الخصوص 1990ءسے بھارتی فو جی بالا دستی ‘ ظالما نہ اقدامات اور کا لے قوانین کے تسلسل کو پورے خطے کی سلا متی اور امن کے لئے خطرنا ک سمجھتے ہیں۔ اور تما م سخت گیر قوا نین کے خا تمے کا مطا لبہ کر تے ہیں۔

((6 یہ اجتما ع اقوا م متحدہ کے خصوصی نما ئندے کے حالیہ دورہ کشمیر پر مبنی رپورٹ کی بنیاد پر عالمی ادارے سے پُر زور مطا لبہ کرتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو جموںو کشمیر میںبے گنا ہ اِنسانوں کے قتل ‘ اغوا اورخواتین کے ساتھ زیادتیوں کے شرمنا ک جرا ئم میں بین الاقوامی قوانین کے مطا بق مقدمات چلا ئے جائیں اور قصور وار فو جی اور سِول حکمرانوں اور اِس میں اما نت کر نے والوں کو عبر تنا ک سزائیں دی جائیں۔

((7 یہ اجتماع جموں و کشمیر سے بھارتی افوا ج کے مکمل انخلاءپر زور دیتا ہے تا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے مذا کرات کا ایک خوشگوار ماحول پیدا ہو سکے۔

(8) یہ اجتماع حکو مت پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ مو جو دہ بین الاقوا می ما حول میں جموں وکشمیر میں یو این او کی رائے شما ری سے متعلق قراردادوں کی بڑھتی ہو ئی اہمیت میں سر گرم حکمت عملی اختیار کر ے۔

(9) یہ اجتما ع حکو مت آزاد کشمیر پر زور دیتا ہے کہ وہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم بے گھر اور مظلوم کشمیریوں کے جملہ مسا ئل حل کرا نے کے لئے رشوت ستانی اور لال فیتہ سسٹم کا خا تمہ کر ے۔ اور اُن کے روزگار اور تعلیی مسا ئل کو تسلی بخش طور پر حل کرا نے کے احکامات جا ری کر ے۔

جاری کردہ اَز مظفر آباد

جموں وکشمیر پیپلز فریڈم لیگ

شہید کما نڈر محمد یوسف چوپا ن کو پیپلز فریڈم لیگ کا خراج عقیدت

January 24, 2011 Leave a comment

سری نگر 23جنوری2011: پیپلز فریڈم لیگ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج یہاں جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تحریک آزادی کے ایک معروف کما نڈر شہید محمد یوسف چوپان المعروف نور الدین زنگی کو زبر دست خرا ج عقیدت پیش کیا گیا اور اُن کی زندگی کے سرفروشا نہ کارنا موں پر رو شنی ڈا لی گئی۔ یہ با ت واضح کی گئی کہ مر حوم رہنما نے اپنی ایماندارانہ جدو جہد سے لو گوں کو متاثر کیا تھا۔اجلاس میں اِس با ت کا عزم کیا گیا کہ حق خود ارادیت اور آزادی کے حصول کے لئے آخری دم تک جدوجہد جا ری رکھی جا ئے گی۔

اُن کی یو م شہادت پر آج با نڈی پورہ میں اُن کی قبر پر فا تحہ خوا نی کی گئی۔یا درہے کہ بھا رتی فو جیوں نے محمد یوسف زنگی کو 23 جنوری 2000ءکو با نڈی پورہ میں گرفتار کر نے کے بعد شہید کیا تھا۔

 

ہمہامہ بڈگام کے سرکردہ عالم دین اور امام و خطیب کو رہا کر دیا گیا ۔

January 18, 2011 Leave a comment

سرینگر//ریاستی ہائی کورٹ اور سیشن جج بڈگام کی ہدایت پر پولیس کے ذریعے 6ماہ قبل گرفتار کئے گئے ہمہامہ بڈگام کے سرکردہ عالم دین اور امام و خطیب کو رہا کر دیا گیا ۔ ہمہامہ بڈگام سے تعلق رکھنے والے امام و خطیب محمد رفیع فاضلی کو31جولائی2010 کوحراست میں لیکر بڈگام تھانے میں بند کر دیاگیاتھا۔چنانچہ کچھ روز تک تھانے میں بند رہنے کے بعد پولیس نے اسے ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جس کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے مذکورہ امام پرپبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیاا ور اسے کٹھوعہ جیل منتقل کر نے کے احکامات صادر کئے۔ عدالت عالیہ نے31دسمبر کو محمد رفیق فاضٗلی پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قراردیا اوران کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔ رہائی کے فوراً بعد سی آئی جے سے وابستہ اہلکاروں نے اسے دوبارہ گرفتار کرکے  17دنوں تک حبس بیجا میں رکھا گیا ۔  سیشن کورٹ بڈگام نے محمد رفیع فاضلی کو ضمانت پر رہا کرنے کے ا حکامات صادرکئے جس کے بعد17جنوری کو اسے رہا کیا گیا۔

 

 

سوپور میں مکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس کا اہتمام ممکنہ عوامی مظاہروں کے پیش نظر فورسز کا حصار اور ناکہ بندی

January 7, 2011 Leave a comment

سوپور میں مکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس کا اہتمام
ممکنہ عوامی مظاہروں کے پیش نظر فورسز کا حصار اور ناکہ بندی
سانحہ 6جنوری 1993

غلام محمد

 

سوپور// سوپور میں 6جنوری 1993 کے سانحہ کی یاد میں کل مکمل ہڑتال رہی اور کئی مقامات پر سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حق میں خصوصی دعائیہ مجالس اور اجتماعی فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا تاہم ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر قصبہ میں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور فورسز نے جامع مسجدکے ارد گرد کڑی ناکہ بندی کرکے یہاں لوگوں کو جمع ہونے سے روک لیا۔ 1993کے سانحہ کے17سال مکمل ہونے پر جمعرات کو حریت کانفرنس(گ) چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کی کال پر سوپور میں تمام طرح کی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں و تجارتی مراکز مکمل طور بند رہے اور سڑکوں پر اکا دکا گاڑیاں ہی نظر آئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے بیشتر سڑکوں اور بازاروں میں دن بھر ہو کا عالم رہا اور لوگوں کی انتہائی کم تعداد نظر آئی۔ قصبہ میں سانحہ کی یاد میںممکنہ احتجاجی مظاہروںکے خدشے کے پیش نظر قصبہ میں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ جامع مسجداور اس کے آس پاس علاقوں میں کڑی ناکہ بندی کی گئی تھی اور لوگوں کو جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس صورتحال کی وجہ سے جامع مسجد میں خصوصی دعائیہ منعقد نہیں ہوسکی۔اس دوران 1993کے سانحہ میں جاں بحق ہوئے افراد کی یاد میں کئی تعزیتی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور انکے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی۔شالہ پورہ میںمسجد شریف میں قرآن خوانی ہوئی اور6جنوری  سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حق میں خصوصی دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا ۔ صدرِ ضلع تحریک حریت امیرِ حمزہ نے مسجد تیلیاں میں خطاب کیا اور سانحہ سوپور کے شہداء کے حق میں فاتحہ خوانی کی۔ قصبہ کے مزار شہداء پر دن بھر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حاضری دی اور وہاں علی الصبح سے ہی اجتماعی فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔ ان علاقوں میں بھی تعزیتی تقاریب منعقد ہوئیں جہاں کے رہنے والے لوگ1993کے سانحہ میں جاں بحق ہوگئے تھے ۔اس سلسلے میں انکے گھروں میں پورا دن لوگوں کا تانتا بندھا رہا اور انکے حق میں کلمات ادا کئے۔واضح رہے کہ17برس قبل6 جنوری1993کے دن سرحدی حفاظتی فورس کے اہلکاروں نے سوپور قصبے کو آگ کے شعلوں کی نذر کرکے 57کے قریب معصوم افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا جبکہ 300سے زائد تعمیراتی ڈھانچوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیا گیا۔قصبہ کے لوگ آج بھی جب اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ دہشت کے مارے سہم کر رہ جاتے ہیں۔اس روزشالہ پورہ  کی گلی سے چند جنگجو نمودار ہوئے اور وہاں موجود سرحدی حفاظتی فورسز اہلکاروں پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی سروس رائفل اڑاکر لے گئے جس کے بعد94بٹالین بی ایس ایف کی تازہ کمک سوپور پہنچی اور بدلے کی کارروائی کے تحت اہلکاروں کی بندوقوں نے سوپورقصبہ کی ہر گلی اور نکڑ سے آگ اگلناشروع کردیا۔بی ایس ایف کمانڈنٹ نے اپنے ماتحت اہلکاروں کو گولی چلانے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں مین بازار ،تحصیل روڈ، کالج روڑ ،آرمپورہ ،مسلم پیر اور دیگر علاقوں میں اتھل پتھل مچ گئی اور سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔فورسز اہلکاروں نے دکانوں اور دیگر عمارات میں موجود لوگوں کوباہر نکلنے کی اجازت نہیں دی اور عمارات کو آگ لگادی جس کے باعث کئی لوگ زندہ جل کر جاں بحق ہوگئے۔اس واردات میں مجموعی طور57شہری گولیاں لگنے اور زندہ جلنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک سو کے قریب رہائشی مکان ،234دکانیں ،61گودام ،صمد ٹاکیز نامی سنیما ،زنانہ کالج اور کئی دیگر سرکاری دفاتر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔بی ایس ایف اہلکاروںکے جانے کے بعد قصبہ کے دہشت زدہ لوگوں نے بچائو کارروئی شروع کی اور ایک گھنٹہ تک وہ کم از کم 45لاشیں ملبے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔کے ایم این کے مطابق اس واقعہ کے خلاف سوپور کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں کئی روز تک زبردست احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔عوامی دبائو کے تحت حکومت نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بی ایس ایف اہلکار ملوث ہیں جس کے بعد فوری طور پر94بٹالین بی ایس ایف کے کمانڈنٹ کو پانچ دیگر اہلکاروں سمیت معطل کیا گیا۔9جنوری کوواقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات صادرکئے گئے اور30جنوری کوجسٹس امر سنگھ چودھری کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا گیا لیکن اس تحقیقات کا کوئی بھی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

 

 

Ganai not being provided medical facility in jail: JKPFL

January 4, 2011 Leave a comment
Ganai not being provided medical facility in jail: JKPFL

URDU>Ganai not being provided medical facility in jail: JKPFL

Categories: News Tags: ,