Archive

Posts Tagged ‘sopore massacre’

سوپور میں مکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس کا اہتمام ممکنہ عوامی مظاہروں کے پیش نظر فورسز کا حصار اور ناکہ بندی

January 7, 2011 Leave a comment

سوپور میں مکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس کا اہتمام
ممکنہ عوامی مظاہروں کے پیش نظر فورسز کا حصار اور ناکہ بندی
سانحہ 6جنوری 1993

غلام محمد

 

سوپور// سوپور میں 6جنوری 1993 کے سانحہ کی یاد میں کل مکمل ہڑتال رہی اور کئی مقامات پر سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حق میں خصوصی دعائیہ مجالس اور اجتماعی فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا تاہم ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر قصبہ میں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور فورسز نے جامع مسجدکے ارد گرد کڑی ناکہ بندی کرکے یہاں لوگوں کو جمع ہونے سے روک لیا۔ 1993کے سانحہ کے17سال مکمل ہونے پر جمعرات کو حریت کانفرنس(گ) چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کی کال پر سوپور میں تمام طرح کی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں و تجارتی مراکز مکمل طور بند رہے اور سڑکوں پر اکا دکا گاڑیاں ہی نظر آئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے بیشتر سڑکوں اور بازاروں میں دن بھر ہو کا عالم رہا اور لوگوں کی انتہائی کم تعداد نظر آئی۔ قصبہ میں سانحہ کی یاد میںممکنہ احتجاجی مظاہروںکے خدشے کے پیش نظر قصبہ میں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ جامع مسجداور اس کے آس پاس علاقوں میں کڑی ناکہ بندی کی گئی تھی اور لوگوں کو جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس صورتحال کی وجہ سے جامع مسجد میں خصوصی دعائیہ منعقد نہیں ہوسکی۔اس دوران 1993کے سانحہ میں جاں بحق ہوئے افراد کی یاد میں کئی تعزیتی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور انکے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی۔شالہ پورہ میںمسجد شریف میں قرآن خوانی ہوئی اور6جنوری  سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حق میں خصوصی دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا ۔ صدرِ ضلع تحریک حریت امیرِ حمزہ نے مسجد تیلیاں میں خطاب کیا اور سانحہ سوپور کے شہداء کے حق میں فاتحہ خوانی کی۔ قصبہ کے مزار شہداء پر دن بھر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حاضری دی اور وہاں علی الصبح سے ہی اجتماعی فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔ ان علاقوں میں بھی تعزیتی تقاریب منعقد ہوئیں جہاں کے رہنے والے لوگ1993کے سانحہ میں جاں بحق ہوگئے تھے ۔اس سلسلے میں انکے گھروں میں پورا دن لوگوں کا تانتا بندھا رہا اور انکے حق میں کلمات ادا کئے۔واضح رہے کہ17برس قبل6 جنوری1993کے دن سرحدی حفاظتی فورس کے اہلکاروں نے سوپور قصبے کو آگ کے شعلوں کی نذر کرکے 57کے قریب معصوم افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا جبکہ 300سے زائد تعمیراتی ڈھانچوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیا گیا۔قصبہ کے لوگ آج بھی جب اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ دہشت کے مارے سہم کر رہ جاتے ہیں۔اس روزشالہ پورہ  کی گلی سے چند جنگجو نمودار ہوئے اور وہاں موجود سرحدی حفاظتی فورسز اہلکاروں پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی سروس رائفل اڑاکر لے گئے جس کے بعد94بٹالین بی ایس ایف کی تازہ کمک سوپور پہنچی اور بدلے کی کارروائی کے تحت اہلکاروں کی بندوقوں نے سوپورقصبہ کی ہر گلی اور نکڑ سے آگ اگلناشروع کردیا۔بی ایس ایف کمانڈنٹ نے اپنے ماتحت اہلکاروں کو گولی چلانے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں مین بازار ،تحصیل روڈ، کالج روڑ ،آرمپورہ ،مسلم پیر اور دیگر علاقوں میں اتھل پتھل مچ گئی اور سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔فورسز اہلکاروں نے دکانوں اور دیگر عمارات میں موجود لوگوں کوباہر نکلنے کی اجازت نہیں دی اور عمارات کو آگ لگادی جس کے باعث کئی لوگ زندہ جل کر جاں بحق ہوگئے۔اس واردات میں مجموعی طور57شہری گولیاں لگنے اور زندہ جلنے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک سو کے قریب رہائشی مکان ،234دکانیں ،61گودام ،صمد ٹاکیز نامی سنیما ،زنانہ کالج اور کئی دیگر سرکاری دفاتر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔بی ایس ایف اہلکاروںکے جانے کے بعد قصبہ کے دہشت زدہ لوگوں نے بچائو کارروئی شروع کی اور ایک گھنٹہ تک وہ کم از کم 45لاشیں ملبے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔کے ایم این کے مطابق اس واقعہ کے خلاف سوپور کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں کئی روز تک زبردست احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔عوامی دبائو کے تحت حکومت نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بی ایس ایف اہلکار ملوث ہیں جس کے بعد فوری طور پر94بٹالین بی ایس ایف کے کمانڈنٹ کو پانچ دیگر اہلکاروں سمیت معطل کیا گیا۔9جنوری کوواقعہ کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات صادرکئے گئے اور30جنوری کوجسٹس امر سنگھ چودھری کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا گیا لیکن اس تحقیقات کا کوئی بھی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

 

 

Advertisements